معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 146821

زید کہتا ہے کہ اس کے چھوٹے بھائی کی ذمہ داری جب اس پر آئی تو اس نے بخوبی اس کو پورا کیا، یعنی اس کی پرورش کی، او رشادی کی اور پھر کاروبار سے لگادیا، اسی درمیان زید کمانے کی غرض سے اپنے ملک سے باہر چلا گیا، تو زید کے چھوٹے بھائی نے اپنے بڑے بھائی کے گھر کی ذمہ داری سنبھال لی، زید نے اپنے پیسہ سے کچھ زمینیں خرید لیں تو اب زید کا چھوٹا بھائی ان زمینوں اپنا حق اور حصہ جتاتا ہے کہ میں نے ان زمینوں کی دیکھ بھال کی ہے اس لیے ان زمینوں میں میرا بھی حصہ ہے، تو کیا ان زمینوں میں جو زید نے اپنی کمائی سے خریدی ہے اس کے چھوٹے بھائی کا کو ئی حصہ اس میں ہوگا یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتلائیں۔

Published on: Jan 15, 2017

جواب # 146821

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 335-340/L=4/1438



زید اپنی کمائی ہوئی رقم سے خریدی زمینوں کا خود مالک ہے، شرعاً اس کی خرید کردہ زمینوں میں اس کے چھوٹے بھائی کا کوئی حصہ نہ ہوگا؛ البتہ اگر بطور احسان وتبرع کے زید اپنے چھوٹے بھائی کو کچھ رقم وغیرہ دیدے تو یہ بہتر ہوگا، قال تعالی: ہَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات