معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 146451

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں سوال ۱: زید کا ایک گھر ہے جو کرایہ پر کسی کو دیکر رکھا ہے ۔ زید کے دوست نے کہا کہ آپ اپنا گھر گِروی رکھ کر وہ پیسہ مجھے دیدو۔ جتنا آپ کو گھر کا کرایہ ملتا تھا اُتنا پیسہ ہر مہینہ میں آپ کو دیتا رہوں گا۔ لہٰذا زید نے اپنا گھر تین لاکھ روپئے میں کریم کو گِروی رکھ دیا اور گھر کریم کے حوالہ کر دیا جس میں کریم خود رہتا ہے اور کریم سے جو تین لاکھ روپئے ملے وہ زاہد کو دیدئے اور یہ طے ہوا کہ جب تک میں تین لاکھ روپئے واپس نہ کروں اسوقت تک ہر مہینہ آ پ کو تین ہزار روپئے دیتا رہوں گا۔ اب یہ تین ہزار روپئے جو زید کو ملتا ہے اسکو کرایہ کہیں گے یا سود کہیں گے ؟ جبکہ گھر کریم کے قبضہ میں ہے ۔ گھر سے زاہد کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مفصّل جواب سے نوازیں۔
سوال ۲: کوئی شخص سود پر کسی کو قرض دیتا ہے اسکی امامت درست ہے یا نہیں؟ اور اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی ہیں ان کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟جواب سے نوازیں۔

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 146451

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 194-212/B=3/1438



 



مرتہن کو مکان سے نفع اٹھانا یعنی اس میں رہنا جائز نہیں اور ”زید“ کو جو ہر مہینہ میں تین ہزار روپئے ”کریم“ سے مل رہے ہیں یہ کرایہ نہیں ہے یہ سود ہے۔



(۲) ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے ایسے آدمی کو امام نہ بنانا چاہئے البتہ جو نمازیں ان کے پیچھے پڑھی گئی ہیں ان کا لوٹانا ضروری نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات