معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 145329

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام ان علماء کرام کے بارے میں جو اپنے بیان و تقریر کا خرچ لیتے ہیں؟ کیا اس طرح کا کوئی نظام آپ علیہ السلام کے دور میں یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دور میں ملتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
سوال نمبر - 2 عام طور پر جو انجمن اور تنظیم جلسہ وجلوس کراتی ہے وہ جن علماء کرام کو اپنے یہاں اجلاس میں بیان و تقریر کا موقع دیتے ہیں اور انہیں عوام سے چندہ اکٹھا کر کے جوبڑی بڑی رقوم دیتے ہیں وہ علماء کرام اپنے یہاں بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ان کا بھی اس سے بہتر استقبال کیا جاتا ہے گویا کہ یہ علماء کرام کی ایک تجارت ہو رہی ہے . کیا ایسی تجارت کرنا جائز ہے ؟
سوال نمبر - 3 اگر یہ رقوم کرایہ کے نام پر لی جارہی ہیں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ علماء کرام جو اپنے کام کے لیے اگر سفر کرتے ہیں تو ٹرین کے سلیپر کلاس سے کرتے ہیں اور کسی جلسے میں انہیں مدعو کیا جاتا ہے تو ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے ؟
سوال نمبر - 4 کیا مقامی علماء کرام اس جلسہ و جلوس کے لیے کافی نہیں ہیں؟
سوال نمبر - 5 ا ن تنظیم وانجمن سے عوام جلسے وجلوس کے حساب و کتاب کا مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں؟کیا اس طرح کے جلسے وجلوس کا انعقاد حضور اکرم صلعم کے زمانے میں ہوتا تھا؟ ہر ایک سوال کا جواب مدلل و مفصل عنایت فرمائیں۔

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 145329

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 016-238/L=3/1438



 



(۱) وعظ پر اجرت لینے کو متأخرین علماء نے جائز لکھا ہے اس لیے وعظ پر متعارف اجرت لینے میں مضایقہ نہیں، اور چونکہ خیرالقرون میں علماء قراء واعظین وغیرہ کے وظائف بیت المال سے مقرر ہوتے تھے، اس لیے خاص اس سلسلے میں خیر القرون میں کسی فنڈ کا ہونا ضروری نہیں، البتہ عموم سے استدلال کیا جاسکتا ہے، اسی بنا پر فقہاء متأخرین نے دیگر طاعات امامت، اذان، تعلیم کی اجرت کو جائز لکھا ہے۔



(۲) اگر آنے جانے سے ایک دوسرے میں ربط او رمحبت پیدا ہو جانے کی وجہ سے اجلاسوں میں ایک دوسرے کو اپنے یہاں مدعو کرتے ہوں تو مضائقہ نہیں؛ البتہ محض روپئے کے حصول یا دیگر اغراضِ فاسدہ کی بنا پر ایک دوسرے کو مدعو کرنا نامناسب ہے اس سے احتراز ضروری ہے والأمور بمقاصدہا۔



(۳) اگر کسی خاص وجہ سے جانے والا ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا مطالبہ کرتا ہے مثلاً: وقت کی تنگی ہے وغیرہ تو اس میں حرج نہیں، ورنہ بلا ضرورت اس کا مطالبہ مناسب نہیں چندہ کی رقمیں قوم کی امانت ہوتی ہیں جن میں احتیاط سے کام لینا ہر ایک پر ضروری ہے۔



(۴) کیوں نہیں! مقامی علماء بھی اس کے لیے کافی ہو سکتے ہیں، البتہ بالعموم مقامی علماء کی قدر وہاں کے عوام کے دلوں میں نہیں ہوتی ہے، اس لیے باہر سے علماء کے بلانے کا رواج ہے۔



(۵) ہر ایک کو تو حساب و کتاب کے مطالبہ کا حق نہیں البتہ وہاں کے مقتداء اور بڑے حضرات مطالبہ کرسکتے ہیں اور بہتر یہی ہے کہ چندہ وصول کرنے والے حضرات ہی چندہ کا پورا حساب تیار کرکے رکھیں تاکہ ہر ایک کو دکھایا جا سکے۔



(۶) مروجہ طرز پر جلسہ جلوس کا انعقاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نہیں تھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوقتِ ضرورت و حسب احوال وقتاً فوقتاً اپنے اصحاب کو نصائح فرمایا کرتے تھے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات