عبادات - قسم و نذر

Netherlands

سوال # 6428

جب میرا نکاح ہوا تو میں نے نذر مانی تھی کہ میں ساری زندگی ہر نماز کے ساتھ دو نفل شکرانہ کی ادا کروں گی، کیوں کہ جہاں میں چاہتی تھی وہی میری شادی ہوئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی نذر ماننا صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا ہر نماز کے ساتھ مجھے نفل ادا کرنی پڑے گی، جب کہ عصر اور فجر کی نماز کے ساتھ نفل نمازپڑھنا منع ہے۔ اور کیا میں رات کی نماز کے ساتھ پورے دن کی نفل جو شکرانہ کی مانی ہے پڑھ سکتی ہوں یا ہر نماز کے ساتھ پڑھنی ہوگی؟ برائے مہربانی ضرور تفصیل سے جواب دیجئے گا۔ دعا میں یاد رکھیے گا۔

Published on: Aug 20, 2008

جواب # 6428

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 855=803/ ل


 


جی ہاں! ایسی نذر ماننا صحیح ہے اور آپ پرہرنماز کے ساتھ دو رکعت نفل کی ادا کرنی ضروری ہے، البتہ آ پ عصر کے وقت نفل عصر کے فرض نماز سے پہلے ادا کریں اور فجر کی نفل کسی اور وقت میں ادا کریں، فجر کے وقت میں ادا نہ کریں؛ کیونکہ طلوع صبح صادق سے طلوعِ آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد نفل ادا کرنا مکروہ ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات