عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 64187

کیا فرماتے ہیں علمائے حق اس مسئلے میں کہ ایک شخص کی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اس شخص نے کہا کہ اگر میرا بھائی ٹھیک ہوگیا تو ایک جانور ذبح کروں گا۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بھائی کی طبیعت ٹھیک ہوگئی اور اس نے جانور ذبح کرکے پیش امام سے پوچھا کہ میں خود اس کا گوشت کھاسکتا ہوں؟پیش امام نے کہا کہ نہ توخود کھاسکتا ہے اور نہ ہی صاحب نصاب کو کھلا سکتاہے ۔وہ شخص صاحب نصاب کا لفظ سن کر پریشان ہوگیا کہ تقریبا سارے رشتے دار صاحب نصاب ہیں اگر ان کے گھر گوشت نہ بھیجا جائے تو ناراض ہوجائیں گے اور یہ بات بھی پیش امام کو بتادی...اب پیش امام نے کہا کہ ایک طریقہ ہے وہ یہ کہ آپ سارا گوشت مجھے دیدیں پھر میری مرضی ہے کہ میں جس کو دیدوں اس نے ایسے ہی کیا اور خود جاکر گھر بیٹھ گیا پیش امام نے اندازے سے گوشت پورے گاؤں میں تقسیم کردیا صاحب نصاب و غیرصاحب نصاب سب کے گھر بھیجدیا.کیا اس طرح کرنا جائز ہے ..اور بھینس بول کر گائے ذبح کرنا یا اس کاعکس کرنا جائز ہے ؟

Published on: Jun 16, 2016

جواب # 64187

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 683-683/Sd=9/1437

(۱) امام صاحب کا بتایا ہوا مسئلہ صحیح تھا، نذر مانی ہوئی چیز کووہی لوگ کھا سکتے ہیں، جو زکات اور صدقات واجبہ کے مستحق ہیں، خود نذر ماننے والے کے لیے اور صاحب نصاب کے لیے اُس کا کھانا جائز نہیں ہے؛ لہذا صورت مسئولہ میں اگر امام صاحب صاحبِ نصاب نہیں تھے اور نذر ماننے والے نے جانور اُن کو ہبہ کر دیا تھا، پھر امام صاحب نے اُس کا گوشت گاوٴں میں صاحب نصاب اور غیر صاحب نصاب سب کے یہاں بھیج دیا، تو سب کے لیے اُس گوشت کا استعمال جائز ہوگیا، اب صاحب نصاب افراد بھی اس کا گوشت کھا سکتے ہیں۔
(۲) بھینس کی نذر مان کر گائے ذبح کرنا یا اس کا برعکس کرنا جائز ہے۔ قال الحصکفي: باب المصرف، أي مصرف الزکاة والعشر، قال ابن عابدین: وہو مصرف أیضا لصدقة الفطر والکفارة والنذر واغیر ذلک من الصدقات الواجبة۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۸۳، کتاب الزکاة، باب المصرف، ط: زکریا) وقال ابن عابدین: وان وجبت بہ (النذر) فلا یأکل منہا شیئا، ولا یطعم غنیا ًسواء کان الناذر غنیا أو فقیرا؛ لأن سبیلہا التصدق، ولیس للمتصدق ذلک۔ (رد المحتار: ۹/۴۷۳، کتاب الأضحیة، ط: زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات