عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 5951

میں اکیس سال کا ایک پاکستانی طالب علم ہوں۔ مجھے سن بلوغت سے ہی مشت زنی کی عادت تھی، اوراس سے پہلے میں یہ نہیں جانتاتھا کہ یہ گنا ہ ہے یا نہیں؟ لیکن کسی سے پوچھے بغیر میں نے ہاتھ میں قرآن شریف کا ایک پارہ لے کر عہد کیا کہ میں دوبارہ مشت زنی نہیں کروں گا اوراللہ سے معافی طلب کی، لیکن کچھ دنوں کے بعد میں شیطان اور نفس کے بہکاوے میں آگیااور مشت زنی کی۔ لیکن چند سالوں کے بعد میں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مجھے اب رک جانا چاہیے اور اس کے بعد میں نے اپنے ہاتھ میں قرآن شریف اٹھایا اور اللہ سے عہدکیا کہ میں اب دوبارہ یہ نہیں کروں گا۔مشت زنی سے حاصل ہونے والی لذت بہت قوی اور شدید تھی اور میں نے دوبارہ مشت زنی کرنا شروع کیا۔ میں نے اپنی روحانی صحت کا بہت زیادہ نقصان کرلیا تھااوراب مجھے مشت زنی سے ضرور احتراز کرنا چاہیے۔ لیکن میں نے اس کو کرنا جاری رکھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اللہ تبارک و تعالی کی مدد طلب کرنے کے لیے اور کسی گناہ سے بچنے کے لیے مجھے اس سے رک جانا چاہیے ، اور اپنے آپ سے کہا کہ مجھے ضرور دوبارہ قرآن شریف اٹھانا چاہیے اور اپنے آپ کو مشت زنی سے روک لینا چاہیے۔ اب میں پریشان ہوں کہ مجھے کیا کفارہ ادا کرنا ہوگا اور میں ابھی مالی اعتبارسے خود مختار نہیں ہوں، میں ایک طالب علم ہوں۔ اب میں اللہ سے پچھتاتا ہوں اور اس سے معافی چاہتاہوں۔ اس معاملہ میں میری رہنمائی فرماویں۔ یہ بہت اہم ہے۔

Published on: Jul 13, 2008

جواب # 5951

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1050=1366/ ھ


 


جتنی مرتبہ قرآن کریم ساتھ میں لے کر قسم کھائی اوراللہ پاک سے عہد کیا اور پھر مشت زنی کرکے قسم توڑدی اتنے کفارے آپ کے ذمہ واجب ہیں۔ سچی توبہ کے ساتھ اداءِ کفارات بھی واجب ہے ،ایک کفارہ یہ ہے کہ دس غرباء مساکین کو دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلادیں یا دس مساکین غرباء کو ایک ایک جوڑی کپڑے بنادیں۔ مالی اعتبارسے خود مختار نہیں، کیا مطلب؟ آپ کو جو کچھ روپیہ وغیرہ ملتا ہے اس میں سے مقدار ضرورت کے علاوہ کچھ بچتا ہے یا نہیں یا بچا سکتے ہیں یا نہیں؟ ان امور کو صاف صحیح واضح لکھئے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات