عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 5077

قرآن کی جھوٹی قسم کھالے تو اس کا فدیہ کیا ہے؟

Published on: Jul 3, 2008

جواب # 5077

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 343=343/ م


 


قرآن کی جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے، اگر جھوٹی قسم ماضی کے بارے میں ہے تو اس کا کفارہ فقط یہ ہے کہ اس سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسی جھوٹی قسم کھانے سے احتراز کرے، اور اگر قسم آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ہے پھر وہ اپنی قسم میں حانث ہوجائے یعنی ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا دس فقیر کو کپڑے پہنادے، ہرفقیر کو اتنا کپڑا دے کہ اس سے اس کا اکثر جسم ڈھک جائے، اور اگر ان دونوں چیزوں پر قدرت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات