عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 1984

میں نے ایک مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ میں آئندہ کوئی گناہ نہیں کروں گا، مگر گناہ ہوجاتا ہے ، تو کیا میرے لیے قسم توڑنے پر تین روزہ رکھنا ضروری ہے؟اگر میں ہر قسم ٹوٹنے پر تین روزہ رکھوں تو میری پوری زندگی ختم ہوجائے گی مگر روزہ پھر بھی رہ جائے گا۔میں کیا کروں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔

Published on: Nov 25, 2007

جواب # 1984

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1515/ ھ= 1185/ ھ


 


قسم کے الفاظ کا تکلم کرنے کے بعد جب پہلا گناہ ہوا تو آپ حانث ہوگئے اور قسم کا کفارہ واجب ہوگیا، دوسری مرتبہ گناہ کرنا تو جائز نہ تھا مگر ہوگیا تو دوسرا کفارہ واجب نہیں۔ حاصل یہ کہ آپ کے ذمہ صورتِ مسئولہ میں ایک کفارہ واجب ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس غرباء مساکین مستحقینِ زکوٰة کو دو وقت کھانا کھلادیں یا دس میں سے ہرایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا بنادیں، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو لگاتار (مسلسل) تین روزے بعد رمضان المبارک رکھ لیں تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات