عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 174936

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے کہ زید کے پاس ایک زمین تھی اس نے اس کو مسجد ے ا مدرسہ کو دینے کی نیت کرلی کچھ سال گزرنے کے بعد زید گھر واپسی کے بعد اس نے اس کو فروخت کردیاہے اس نے زمین پانچ لاکھ میں لیا تھاجبکہ فروخت دس لاکھ میں کردیا تو اب بتائیں کہ کیا پانچ لاکھ کی زمیں دوسری جگہ پر لیکر مسجد کو دے دینے سے زید بری الزمہ ہو جائے گا یا پورے پیسے سے مسجد کے لئے زمین ہی لینی پڑے گی؟ اور کیا کسی مسجد کی تعمیر میں وہ پیسے صرف کیا جاسکتا ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

Published on: Dec 1, 2019

جواب # 174936

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 383-289/B=03/1441



جب آپ نے اپنی زمین مسجد کو دینے کی نیت کرلی تھی تو اسے فروخت نہ کرنا چاہئے تھا۔ اور فروخت کر دیا تو آپ اتنی ہی بڑی زمین ان پیسوں سے لے کر مسجد کو دیدیں۔ پیسے تو اِدھر اُدھر کے کاموں میں خرچ ہو جائیں گے لیکن جو زمین مسجد کو دیں گے یہ آپ کی طرف سے صدقہ جاریہ ہوگا۔ اس کا ثواب زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ملتا رہے گا آپ کے لئے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گا۔



---------------------------



جواب صحیح ہے؛ البتہ مزید عرض ہے کہ فتوی میں تحریر کردہ حکم محض افضل و اولیٰ درجہ کا ہے؛ کیونکہ محض نیت سے کوئی زمین و جائیداد وغیرہ وقف نہیں ہوتی ہے۔ (ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات