عبادات - قسم و نذر

pakistan

سوال # 158536

حضرت مفتی صاحب! قسم کا کفارہ کیا ہوتا ہے؟

Published on: Feb 4, 2018

جواب # 158536

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:508-461/M=5/1439



قرآن کریم کی سورہٴ مائدہ آیت نمبر ۸۹میں اس کا کفارہ بیان کیا گیا ہے: ارشاد خداوندی ہے: فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاکِینَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلَاثَةِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَةُ أَیْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ إلخ حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھائے اور پھر وہ حانث ہوجائے یعنی قسم ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکین کو دو وقت کا کھانا (درمیانی درجے کا کھانا جیسا وہ اپنے اہل خانہ کو کھلاتا ہے) پیٹ بھر کر کھلائے یا دس فقیر کو اتنا کپڑا دے جس سے بدن کا اکثر حصہ چھپ جائے او راگر کھانا کھلانے یا کپڑا پہنانے کی استطاعت نہیں ہے تو لگاتار تین روزے رکھے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات