عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 157805

جناب میرے گاوں میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی گئی ہے ، اس کے لئے میری دادی جان نے اپنے ہاتھوں کے زیورات کو بول رکھا ہے کہ جب مسجد میں کام چلے گا اسوقت ان کو میں اس میں خرچ کروں گی لیکن اس بنیاد کو کئی سال گزر گئے ہیں اور اس میں کام شروع نہیں ہو رہا ہے ، اب دادی جان ان زیورات کو دوسری مسجد میں دینا چاہتی ہیں، کیونکہ دوسری مسجد میں تعمیر کا کام چل رہا ہے ان زیورات کو دوسری مسجد میں دینا جائز ہے یا نہیں؟
مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Jan 20, 2018

جواب # 157805

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:372-335/M=4/1439



صورت مسئولہ میں آپ کی دادی جان نے اگر گاوٴں کی متعینہ مسجد میں اپنے زیورات دینے کی صرف نیت کی تھی تب تودوسری مسجد میں دینے میں کوئی حرج ہی نہیں اور اگر نذر مان لی تھی تب بھی دوسری مسجد میں دینے کی اجازت ہے۔ والنذر من اعتکاف أو حج أو صلاة أو صیام أو غیرہا غیر المعلق ولو معینا لا یختص بزمان ومکان ودرہم وفقیر الخ (شامي)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات