عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 155763

حضرت، میں نے قسم کھائی تھی کہ اگر آئندہ میں نے مشت زنی کی تو جب بھی میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق۔ اس کے بعد میری شادی ہو گئی، لیکن شادی کے ایک سال بعد مجھ سے مشت زنی ہوگئی اور میں نے سمجھا کہ اب تو نکاح ہو چکا ہے اب نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوگا، (مجھے صحیح مسئلہ معلوم نہیں تھا) اس کے بعد میرے یہاں دو بچے ہوئے۔ بچے پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ نکاح کے بعد مشت زنی کرنے سے بھی طلاق ہوگئی، اس کے بعد میں نے تجدید نکاح کر لیا ۔
اب میں بچوں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ مجھ سے یہ ناجائز کام ہو گیا۔ میں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن جب ان کی طرف دیکھتا ہوں دل میں یہی خیال آتا ہے، میں بہت پریشان ہوگیا ہوں، ہر وقت شیطانی خیالات آتے ہیں بچوں کے بارے میں سوچ کر۔
مجھے کوئی ذکر بتائیں کہ میرے دماغ سے یہ باتیں نکل جائے اور اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔

Published on: Feb 22, 2018

جواب # 155763

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:119-100/N=2/1439



صورت مسئولہ میں اگر آپ نے قسم کے بعد اور شادی سے پہلے مشت زنی نہیں کی؛ بلکہ شادی کے ایک سال بعد آپ سے مشت زنی ہوئی تو آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ البتہ اِس کے بعد آپ جب کبھی کسی عورت سے نکاح کریں گے تو نکاح کرتے ہی اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور آپ نے دو بچوں کی پیدائش کے بعد مشت زنی کی وجہ سے طلاق سمجھ کر جو تجدید نکاح کیا، وہ لغو اور فضول ہے، آپ کو تجدید نکاح کی ضرورت نہ تھی، پس اس کی وجہ سے بھی آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ؛ لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں، آپ کے دونوں بچے ثابت النسب اور حلالی ہیں۔



ألفاظ الشرط: إن … ومتی ومتی ما، ففي ہٰذہالألفاظ إذا وجد الشرط انحلت الیمین وانتہت الخ (الفتاوی الھندیة، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ونحوہ، الفصل الأول فی ألفاظ الشرط،۱: ۴۱۵، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، إن وجد -الشرط- فی الملک طلقت الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ۴: ۶۰۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات