عبادات - قسم و نذر

bangladesh

سوال # 154669

مفتیان کرام سے ایک ضروری مسئلہ جاننا چاہتا ہوں "اللہ تعالی آپ کی خدمات قبول فرمائیں " کہ کسی نے گھر میں ماں باپ کے ساتھ جھگڑا کرکے سسرال میں چل آیا پھر ماں کو فون کرکے سخت غصہ کی حالت میں کہا" خدا کی قسم. میں نے کبھی اس گھر میں پاؤں نہ رکہوں گا " یہ تین چار مرتبہ کہا پھر پانچ دن بعد گھر گیا، تو یہ قسم منعقد ہوا ؟ اور ایک ہی قسم ہوا ؟ اگر قسم ہوا تو کفارہ کس طرح ادا کرے ؟

Published on: Oct 7, 2017

جواب # 154669

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1511-1508/L=1/1439



(۱،۳)اگر اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ”خدا کی قسم میں کبھی اس گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا “تو اس گھر میں پاؤں رکھنے کی صورت میں وہ حانث ہوگئے؛ لہٰذا اس پر قسم کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے،اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت کھانا کھلاجائے یا ایک ایک جوڑاکپڑا دیا جائے اور اگر ان دونوں (کھانے کھلانے یا کپڑا پہنانے) کی قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے جائیں۔واضح رہے کہ کھانا کھلانے یا کپڑا پہنانے پر قدرت ہوتے ہوئے روزے رکھ لینا کافی نہ ہوگا۔ وکفارتہ تحریر رقبة أو أطعام عشرة مساکین أو کسوتہم بما یستر عامة البدن وإن عجز عنہا وقت الأداء صام ثلاثة أیام ولاء (تنویر الأبصار مع رد المحتار، مطلب کفارة الیمین) ۔



(۲) اگر اس نے بعینہ یہی الفاظ متعدد مرتبہ کہے ہیں توہر مرتبہ قسم کے عوض کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔



وتتعدد الکفارة لتعدد الیمین، والمجلس والمجالس سواء ولوقال عنیت بالثانی الأول ففی حلفہ باللہ لا یقبل․ (الدر المختار مع الشامي: ۵/۴۸۶/کتاب الأیمان ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات