عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 154540

زید ایک غیر شادی شدہ انسان ہے ، اور زید کا تعلق ایک ایسی لڑکی سے ہے جو زید کے لئے غیر محرم ہے ، لیکن اس تعلق کا علم صرف زید اور اس کے خدا کو ہے ، ایک دن زید کی ماں کو اچانک(زید کے کسی کرتوت کی وجہ سے ) احساس ہوا کہ زید کا تعلق کسی غیر محرم لڑکی سے ہے ، تب زید کی ماں نے تربیت کے واسطے یہ قسم دی کہ اگر تمہارا تعلق جس لڑکی سے بھی ہے ہرگز اس سے بات مت کرنا، اس کے بعد زید کی ماں نے قسم دی وہ قسم کچھ اس طرح تھی، (تم کو میرے سر کی قسم، میری جان کی قسم اس لڑکی سے بات مت کرنا) اس نے بعد میں بات کرنا چھوڑ دیا اپنی ماں کی قسم کی وجہ سے ، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ جو کچھ میری ماں نے کہا ہے کیا وہ قسم ہوی اور اگر قسم ہوی تو اس قسم کا کفارہ کیا دینا ہوگا، اور کیا میں اس قسم کا کفارہ دے سکتا ہوں۔
برائے مہربانی جلد از جلد مع دلیل جواب مرحمت فرمائے شکریہ

Published on: Oct 9, 2017

جواب # 154540

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1466-1490/H=1/1439



غیر اللہ کی قسم کھالی جائے تو وہ منعقد نہیں ہوتی پس صورت مسئولہ میں اگر قسم بالفرض ٹوٹ بھی گئی تو زید یا اس کی والدہ کے ذمہ قسم کا کفارہ واجب نہیں، مگر اس طرح قسم کھانا جیسا کہ والدہ نے کھائی جائز نہیں، آئندہ اس کا لحاظ رکھیں اور زید پر واجب ہے کہ آئندہ اس غیر محرم لڑکی سے گفتگو وغیرہ کا تعلق ہرگز نہ رکھے، اس قسم کے تعلق رکھنے سے بعض مرتبہ بڑے گناہ کے صادر ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے نیز دل ودماغ وغیرہ میں انتشار پیدا ہوکر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات