عبادات - قسم و نذر

india

سوال # 154462

میرا نام محمد بلال ہے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی نذر اور منت مانگ لے کسی کام کی وجہ سے او رپھر اسے لگے کہ وہ یہ نہیں کر پائے گا اور وہ اسے کم کردے، تو کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ مثلاً کسی نے منت یا نذر مانگی کہ اللہ مجھے پاس کردے! وہ ۴۰/ دن کی جماعت میں جائے گا، اور پھر اسے لگے کہ اتنا نہیں ہو پائے گا اور وہ ۴۰/ دن سے ۱۰/ دن کردے، نتائج آنے سے پہلے ہی اس نے بدل دیا، تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

Published on: Sep 27, 2017

جواب # 154462

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1329-1101/D=1/1439



نذر کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز عبادات مقصودہ کی قبیل سے ہو، تبلیغ کے لیے جماعت میں نکلنا عبادت مقصودہ نہیں ہے، لہٰذا اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر آدمی کسی کارِ خیر کا ارادہ کرے تو حتی المقدور اسے پورا کرنا چاہئے، پس اگر آپ نے جماعت میں جانے کا ارادہ کیا تھا، تو جتنا ہو سکے اسے پورا کرنا بہتر ہے۔ وفی البدائع: ومن شروطہ أن یکون قربة مقصودة فلا یصح النذر بعیادة المریض، وتشییع الجنازة، والوضوء والاغتسال و دخول المسجد ومس المصحف والاذان۔ الدرّ مع الردّ المختار:۵/ ۵۱۶



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات