عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 154195

میرے ایک بھائی نے یہ سوال پوچھا ہے جو مندرجہ ذیل ہے:۔
میرے گاوٴں میں ایک بہت بڑا قبرستان ہے اس کو گاوٴں کے سبھی لوگ اپنے جانوروں کے چراگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور لوگ گندگی (پاخانہ، پیشاب) بھی پھیلاتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے منت مانا تھا کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں قبرستان کے اندر کسی جانور کو چرانے نہیں دوں گا اور لوگوں کو گندگی بھی پھیلانے نہیں دوں گا۔ اب میرا وہ کام ہو گیا ہے جس کے لیے میں نے منت مانی تھی۔
اب کچھ سوالات میرے ذہن میں ہیں:۔
(۱) اب اگر لوگ اپنے جانور چرائیں گے یا گندگی پھیلائیں گے تو کیا ان سب کا عذاب مجھے ہوگا؟
(۲) کیا اس طرح کی منت ماننا شرعاً جائز ہے؟
(۳) کیا اس طرح کی منتوں کو پورا کرنا ہمارے ذمہ واجب ہو گیا؟
(۴) اگر میں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو کیا میں عذاب کا مستحق ہوں گا؟

Published on: Sep 21, 2017

جواب # 154195

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1427-1339/H=12/1438



(۱، ۲، ۳، ۴) جس چیز کی منت مانی جائے وہ عباداتِ مقصودہ کے قبیل سے ہونی چاہئے قبرستان میں جانوروں کو چرانے نہ دینا یا گندگی پھیلانے نہ دینا عباداتِ مقصودہ کے قبیل سے نہیں ہیں پس کام ہو جانے پر اِس پر عمل کرنا تو اگرچہ واجب نہیں ہے مگرآپ کو اگر قبرستان میں گندگی پھیلانے اور جانوروں کو چرانے والوں کو روکنے کی استطاعت ہے تو حتی الوسع روکنا چاہئے ورنہ قبرستان کی بے حرمتی پر اگر عذاب آیا تو اس میں آپ بھی شامل ہوں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات