عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 146754

جب کوئی شخص قسم کھاتا ہے کہ میں یہ گناہ نہیں کروں گا اور پھر اس سے وہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پہلے قسم توڑنے کے بعد اگر اسی گناہ کی نہ کھانے کا دوبارہ قسم کھائے اور پھر تھوڑے، تو کیا ہر دفعہ الگ الگ کفارہ ادا کرے گا یا ایک کفارہ کافی ہے؟

Published on: Jan 7, 2017

جواب # 146754

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 237-209/N=4/1438



 



 اگر کسی نے کوئی گناہ نہ کرنے کی قسم کھائی اور توڑدی ، اس کے بعد اس نے دوبارہ وہ گناہ نہ کرنے کی قسم کھائی اور وہ بھی توڑدی تو اس پر دو کفارے واجب ہوں گے، صرف ایک کفارہ کافی نہ ہوگا (امداد الفتاوی ۲:۵۴۶، سوال: ۶۵۶، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند) ۔ وفی البحر عن الخلاصة والتجرید: وتتعدد الکفارة لتعدد الیمین، والمجلس والمجالس سواء (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الأیمان، ۵:۴۸۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، فعلم أن التعدد ھو ظاھر الروایة (تقریرات الرافعي، ۲: ۱۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات