عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 146538

میں اور میرے شوہر اکثر کسی بات کا یقین دلانے کے لیے ایک دوسرے کی قسم کھاتے ہیں اور کبھی کبھی ہم اپنے بیٹے کی قسم بھی کھالیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

Published on: Dec 1, 2016

جواب # 146538

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 256-195/L=2/1438



 



بوقتِ ضرورت بات کو موٴکد کرنے کے لیے قسم کھانے کی گنجائش ہے؛ مگر قسم صرف اللہ کے نام کی کھانا جائز ہے غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں، اسی طرح بات بات پر قسم کھانا اچھا نہیں۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أدرک عمر بن الخطاب وہو یسیر فی رکب یحلف بأبیہ فقال: ألا إن اللہ ینہاکم أن تحلفوا بآبائکم، من کان حالفاً فلیحلف باللہ أو لیصمت (بخاری شریف) ولا یقسم لغیر اللہ کالنبي والقرآن والکعبة (درمختار: ۵/۴۸۵) وفی الہندیة: المین باللہ لاتکرہ ولکن تقلیلہ أولی من تکثیرہ۔ (الہندیة: ۲/۵۲) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات