عبادات - قسم و نذر

pakistan

سوال # 145336

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا قسم کا کفارہ مدرسے میں دے سکتے ہیں؟، کیونکہ مدرسوں میں عام طور پر احتیاط نہیں برتی جاتی اور سب مال کو ملا یا دیا جاتا ہے ، حالانکہ قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دینا ہے ، مدرسے میں بہت سارے طلبہ کھالیتے ہیں، تو کیا مدرسے میں دینے والے کا کفارہ اداء ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر دیدیا ہے تو کیا کیاجائے گا؟ دوبارہ دینا پڑے گا یا نہیں؟

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145336

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 015-031/D=2/1438



 



جی ہاں قسم کا کفارہ مدرسہ میں دے سکتے ہیں البتہ مدرسہ والوں کو بتلادیں کہ یہ قسم کے کفارہ کی رقم ہے تاکہ وہ اس رقم سے دس غربا کے کھانے کا نظم کردیں۔



اگر کسی مدرسہ کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہاں احتیاط نہیں برتی جاتی یا وہاں کے ذمہ دار مسائل سے ناواقف ہیں تو پھر محتاط جگہ کی تحقیق کرکے دیں یا پھر خود دس غریبوں کو کھلانے کا نظم کریں یا دس غریبوں کو خشک غلہ دے دیں یا غلہ کی رقم دس غریبوں کو دے دیں، بہرحال دیتے وقت اطمینان ہونا ضروری ہے کہ مصرف تک پہنچ جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات