عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 145267

میری بیوی نے مجھ سے زبردستی قرآن اٹھاکے قسم اٹھوائی کہ آج کے بعد آپ فلاں آدمی سے کوئی تعلق نہیں رکھو گے اور نہ ہی اس سے ملوگے لیکن میں دل سے اس بات پر راضی نہیں تھا ، مگر جھگڑا ختم کرنے کے لیے میں نے قرآن اٹھاکر قسم کھالی ،میرا اُس آدمی سے ملنا اور تعلق اور بات چیت کرنامسلسل رہا، اس لیے اب میں کیا کروں کہ مجھ پر کوئی گناہ نہ ہو، کفارہ دوں یا کچھ اور کروں؟
جزاک اللہ۔

Published on: Nov 12, 2016

جواب # 145267

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 040-065/L=2/1438



 



اگر آپ نے اہلیہ کے اصرار پر قرآن اٹھاکر قسم کھالی کہ ”میں فلاں آدمی سے تعلق نہیں رکھوں گا“ تو قسم کھا لینے کے بعد تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ حانث ہوگئے؛ لہٰذا قسم کا کفارہ آپ پر واجب ہوگیا، قال الکمال: ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمیناً وقال الشامی: وہذا فی زمانہم، وأما فی زماننا فیمین، وبہ نأخذ ونأمر ونعتقد، وبہ قال مقاتل الرازی: إنہ یمین، وبہ أخذ جمہور مشائخنا۔ (شامی: ۵/۴۸۵)۔ ومن حلف علی معصیةٍ کعدم الکلام ․․․․․․․ وجب الحنث والتکفیر، لأنہ أہون الأمرین (الدرالمختارخ ۵/۵۰۶)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات