معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 173449

عرض کرتا ہو ں کہ میں ایک سنی ہوں لیکن ایک اہل تشیع لڑکی سے محبت ہو گئی۔ اہل تشیع لڑکی کی منگنی اس کے ایک اور رشتہ دار سے طے پا چکی تھی لیکن وہ اس پر راضی نہیں تھی، وہ مجھ سے شادی کی خواہشمند تھی۔ چنانچہ ہم دونوں نے گواہوں اور ولی کی عدم موجودگی میں فون پر ہی ایجاب و قبول کرلیا۔ کیا اب وہ لڑکی میرے لئے حلال ہے، اور کیا جنسی تعلق رکھا جا سکتا ہے؟ شکریہ

Published on: Oct 9, 2019

جواب # 173449

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 63-41/B=01/1441



نکاح کے لئے لڑکا اور لڑکی دونوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے، ہندو پاک میں چوں کہ عام طور پر اثنا عشری شیعہ پائے جاتے ہیں جو اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں، دائرہ اسلام سے خارج و مرتد ہیں؛ اس لئے شیعہ لڑکی سے نکاح حرام ہے وہ آپ کے لئے حلال نہیں ہوگی۔ وبہذا یظہر أنّ الرافضيّ إن کان ممن یعتقد الألوہیّة في عليّ ، أو أنّ جبریل غلط في الوحي ، أو ینکر صحبة الصدّیق ، أو یقذف السیدة الصّدیقة فہو کافر لمخالفتہ القواطع المعلومة من الدین بالضرورة ۔ (الشامی، کتاب النکاح: ۴/۱۲۵، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات