معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 173006

میں جاننا چاہتا ہوں کہ میرا نکاح سیدہ سنی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں ؟ ، جبکہ میرا تعلق عیر سید قبیلے سے ہے اور ہمارے بڑے بتا رہے ہیں کہ ہمارا تعلق جولہا خاندان سے ہے جس کو گٹھیا اور نیچے طبقہ سمجھا جاتا ہے اور وہ لڑکی سیدہ سنی خاندان سے ہے ۔ہم دونوں 9 سال سے پیار کرتے ہیں اور میرا عمر تقریبا 37 سال ہے میرے گھر والے بہت مشکل سے راضی ہوگئے اور میں نے رشتہ مانگنے کے لئے بھیجا ، لڑکی کے گھر والوں نے بہت عزت کے ساتھ جواب دیا کہ ہم عیر سید کو رشتہ نہیں دیتے مجھے بھی صحیح طور پر معلوم نہیں تھا کہ واقعی سید لوگ رشتہ عیر سید کو رشتہ نہیں دیتے بعد میں پتہ چلا کہ ہم تو اس کے کفو کے برابر بھی نہیں ہے ، ہم تو بہت نچلے ذات جولہا ذات سے ہے ، میں بار بار اس کے بھائی سے رابطہ کیا کہ سب کچھ کرنے لکھنے کو تیار ہوں مجھے رشتہ دے لیکن بار بار انکار کیا ہے ، لیکن کیا واقعی میرا رشتہ سیدہ لڑکی کے ساتھ جائز نہیں؟ میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں اور وہ بھی کرتی ہے ،اس لڑکی نے بھی اپنے گھر میں بہت منت کی بہت روئی لیکن کوئی ماننے والا نہیں ہے کیا ہمارا رشتہ جائز نہیں ہے کیا ہمارا نکاح نہیں ہوسکتا ، اگر ہم اتنے گٹھیا ذات کے ہے تو پھر اسلام میں سب کو برابر کیوں کہا جاتا ہے ؟

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 173006

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1432-1168/B=01/1441



ویسے تو اسلام میں ہر مسلمان لڑکے کی شادی دوسرے مسلمان لڑکی کے ساتھ ہو سکتی ہے خواہ دونوں کسی برادری سے تعلق رکھتے ہوں۔ لیکن نکاح کے بعد معاشرہ کو خوشگوار بنانے کے لئے اور نسب کی حفاظت کے لئے لڑکے اور لڑکی کا ہم کفو ہونا بھی ضروری ہے۔ کفاء ت لڑکی کی طرف سے ہونا ضروری ہے یعنی لڑکی کا نکاح اس کے برابر والے یا اس کے اوپر کے درجہ والے سے ہونا چاہئے، بیوی کے مقابلہ میں شوہر گھٹیا اور نیچے درجہ کا نہ ہونا چاہئے۔ ویسے اگر لڑکی کے ولی یعنی باپ اپنی بیٹی کا نکاح گھٹیا طبقہ کے لڑکے کے ساتھ کرنے پر راضی ہیں اور بخوشی اجازت دیتے ہیں اور لڑکی بھی راضی ہے تو نکاح صحیح ہوجائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات