معاشرت - نکاح

India

سوال # 163894

ایک لڑکا اور لڑکی محبت کرتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔جن کے ماں باپ راضی نہیں ہیں، کیوں کہ لڑکا غریب ہے اور پڑھا لکھ نہیں۔ہر طرح کے گناہ سے بچنے کے لیے اگر لڑکا لڑکی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیں بنا والدین کی اجازت کے تو کیا یہ نکاح درست ہوگا اس میں کوی حرج تو نہیں؟کیا یہ نکاح ہر طریقے سے جائز ہوگا؟؟ رہنمائی فرمائیں۔شکریہ

Published on: Aug 2, 2018

جواب # 163894

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1328-1125/D=11/1439



لڑکی اور لڑکے کا از خود نکاح کی بات چیت کرنا اور خود سے نکاح کرنے پر اقدام کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے لہٰذا والدین کی معرفت ہی شادی کی بات چیت چلانی چاہیے اور انھیں کی مرضی سے عقد نکاح منقعد کرنا چاہیے ایک حدیث میں تو یہاں تک فرمایا گیا لا نکاح إلا بولي پس ولی کو نظر انداز کرکے نکاح کا اقدام کیسے پسندیدہ ہوسکتا ہے۔پھر بھی اگر بالغ مسلمان لڑکے نے بالغہ مسلمان لڑکی کے ساتھ دو معتبر شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح اور لڑکا لڑکی کا ہم کفو بھی ہے تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور اگر لڑکا لڑکی سے کم تر ہوا تو لڑکی کے اولیاء نکاح فسخ کراسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات