معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 162159

نکاح کرنے کے لئے دو گواہان کی موجودگی میں مرد اور عورت جب ایجاب و قبول کریں جس عورت کا نکاح ہو رہا ہو وہ حالت حیض میں ہو اور جس مرد سے اس کا نکاح ہو رہا ہو وہ حالت جنابت میں ہو اور اس کے کپڑوں پر بھی نجاست لگی ہو اور وہ اسی حالت میں انہیں کپڑوں میں بغیر غسل کئے نکاح کرنے کے لئے ایجاب و قبول کرلے تو کیا ایسا کرنے سے ان کا نکاح ہو جائے گا؟ اور ان کے نکاح کے دو گواہان میں سے ایک گواہ بھی حالت جنابت میں ہو اور وہ بغیر غسل کئے نکاح میں گواہی کے لئے شریک ہو تو کیا ایسی حالت میں اس کو گواہ بنایا جاسکتا ہے؟ اور اس کو گواہ بناکر نکاح درست ہو جائے گا؟
براہ کرم، شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Jun 13, 2018

جواب # 162159

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1141-1067/M=9/1439



 



نکاح کے عاقدین و گواہان کا پاک ہونا شرط نہیں، اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور مرد جنابت کی حالت میں یاان کے کپڑوں پر نجاست لگی ہو اور وہ غسل کئے بغیر کپڑے کی ناپاکی دھوئے بغیر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب و قبول کرلیں تب بھی نکاح درست اور منعقد ہو جائے گا چاہے گواہان بھی ناپاک ہوں۔ حاصل یہ کہ صحت نکاح کے لئے عاقدین وگواہان کے جسم یا کپڑے کی طہارت لازم نہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ سب لوگ پاک و صاف ہوں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات