معاشرت - نکاح

India

سوال # 161921

ماں باپ کا اپنی اولاد کے نکاح پر ذرا بھی دھیان نہ دینا۔
حضرت، میرے تین بھائی ہیں اور سارے برسر روزگار ہیں۔ اس کے باوجود میرے والد اپنی اولاد کا نکاح کے لئے کوئی مشورہ نہیں کرتے، بلکہ دھیان ہی نہیں دیتے تو کیا ایسے والدین کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہئے؟

Published on: Jun 7, 2018

جواب # 161921

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1018-900/D=9/1439



بالغ ہونے کے بعد اور موجودہ وقت میں برسرروزگار ہو جانے کے بعد بچوں کے نکاح میں جلدی کرنی چاہئے والدین کا بلا وجہ تاخیر کرنا امروز وفردا میں ٹالنا مناسب نہیں فتنے کا دور ہے عفت و پاکدامنی سے وقت گذارنا بہت اہمیت رکھتا ہے اگر والدین کی کوتاہی کیوجہ سے لڑکے کسی گناہ کے مرتکب ہوئے تو اس کا وبال والدین پر بھی ہوسکتا ہے۔



بچوں کو اپنے والدین کے تئیں رویہ تو اچھا رکھنا چاہئے بدخلقی یا بدمعاملگی کرنا کسی طرح زیبا نہیں، یہ ان کے لئے باعث وبال ہو جائے گا۔



ہاں والدہ ماموں چچا یا اور کسی ہمدرد کے ذریعہ والدین کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا بھی کریں اور رشتہ منتخب کرنے سے پہلے استخارہ بھی کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات