معاشرت - نکاح

India

سوال # 161345

کیا کفریہ کلمات کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اگر نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو مرد سے چھٹکارہ پانے کے لیئے مجبوری میں جب کہ مرد طلاق نہ دے اور عورت کو تنگ کرتا ہوعورت چاہے کہ معاملہ خاموشی سے نمٹجائے اور مرد کہتا ہو کہ عدالت میں پیش کرو تو ایسے حالات کیا کرے ؟

Published on: May 16, 2018

جواب # 161345

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1002-931/M=8/1439



نکاح فسخ کرنے کے لیے اور مرد سے چھٹکارا پانے کے لیے عورت کو کفریہ کلمہ کہنے کی ہرگز اجازت نہیں، دائرہٴ اسلام سے خارج ہونا اور کفر وارتداد اختیار کرنا بہت سخت گناہ اور انتہائی سنگین جرم ہے اس سے آدمی کے سارے نیک اعمال حبط ہوجاتے ہیں اگر عورت مرد سے چھٹکارا پانے کے لیے کفریہ کلمہ کہتی بھی ہے تو مشائخ بلخ وسمرقند کے قول کے مطابق جس پر فتوی دیا گیا ہے وہ عورت شوہر کے نکاح سے خارج نہ ہوگی بلکہ نکاح بدستور باقی رہے گا (دیکھئے الحیلة الناجزہ) اگر عورت واقعی مظلوم ہے یعنی شوہر اس کا نان ونفقہ ادا نہیں کرتا اور نہ واجبی حقوق پورے کرتا ہے تو ایسی عورت مقامی یا قریبی شرعی پنچایت سے رجوع کرے وہاں سے حالات کی پوری تحقیق اور ضابطے کی شرعی کارروائی کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات