معاشرت - نکاح

India

سوال # 161095

حضرت، میرا سوال ہے کیا نکاح کے بعد ولیمہ کرنے کے لئے ہمبستری ضروری ہے؟ اور نکاح کے کتنے وقت بعد تک ولیمہ کیا جاسکتا ہے؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 161095

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:890-752/N=8/1439



 (۱): سنت ولیمہ کی ادائیگی کے لیے نکاح کے بعد شب زفاف گذارنا یا اس میں ہمبستری کرنا ضروری نہیں؛ البتہ مسنون وافضل یہ ہے کہ نکاح اور رخصتی کے بعد جب زفاف ہوجائے تو ولیمہ کیا جائے گا ، پس اگر کسی نے رخصتی یا شب زفاف سے پہلے ولیمہ کردیا تو نفسل ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی؛ کیوں کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش کا ولیمہ زفاف سے پہلے فرمایا، پس اس سے نفس سنت کی ادائیگی ثابت ہوئی ؛ البتہ اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ولیمہ زفاف کے بعد ہوا جیسے دیگر ازواج مطہرات کے نکاح میں ولیمہ زفاف کے بعد ہوا (فتاوی دار العلوم دیوبند ۷: ۱۶۷، سوال:۲۱۰، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند، نفائس الفقہ، ۲: ۱۵۳-۱۶۰،مطبوعہ: فیصل پبلی کیشنز، دیوبند، فتاوی عثمانی مع حاشیہ، ۲: ۳۰۲، ۳۰۳، مطبوعہ: مکتبہ معارف القرآن کراچی) اور نجاشی شاہ حبشہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت ام حبیبہسے کیا اور لوگوں کو کھانا کھالیا، اور یہ رخصتی سے پہلے ہوا،پس معلوم ہوا کہ زفاف سے پہلے بھی ولیمہ ہوسکتا ہے، سنت ادا ہوجائے گی۔



 ذکر ابن السبکي أن أباہ………قال:والمنقول من فعل النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنھا بعد الدخول (فتح الباری، ۹: ۲۸۷)، ولیمة العرس سنة وفیھا مثوبة عظیمة ،وھي إذا بنی الرجل بامرأتہ ینبغي أن یدعو الجیران والأقرباء والأصدقاء ویذبح لھم ویصنع لھم طعاما کذا في خزانة المفتین (الفتاوی الھندیة،کتاب الکراہیة،الباب الثاني عشر فی الھدایا والضیافات،۵: ۳۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



(۲): نکاح اور رخصتی کے بعد جب شب زفاف گذرجائے تو ولیمہ کردیا جائے، اور اگر کسی وجہ سے دوسرے دن ولیمہ نہ کیا جاسکے تو تیسرے دن بھی کرسکتے ہیں؛ البتہ وزفاف کے بعد ولیمہ میں زیادہ تاخیر نہ کی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات