معاشرت - نکاح

Maharashtra

سوال # 157684

میرے کالج کی ایک لڑکی مجھے پسند آئی ہے ، اسے بھی میں پسند ہوں۔ میرے اندر نفسانی خواہشات ایسی آتی ہے کہ میں روک نہیں پاتا ہوں اور مشت زنی کرکے پوری کر لیتا ہوں، اب جب وہ لڑکی ملی تو میں نے اس سے نکاح کر لیا کسی کو بتائے بغیر دوگواہوں کے سامنے میں نے اس سے کہا تم کو میں نے اپنے نکاح میں قبول کیا، اس نے جواب دیا کہ میں نے قبول کیا نکاح ہو گیا، لیکن یہاں پر میں نے کوئی بھی مہر کی بات نہیں کی اور اس کے ساتھ خواہش پوری کر لیا بنا مہر دیئے ، اس میں رہبری فرما ئیں، کیا نکاح ہو گیا اور میری خواہش پوری کرنا زنا میں تو شمار نہیں ہوگا؟
میں ابھی طالب علم ہوں، ڈگری کے بعد گھر پر بات کروں گا ،ان شاء اللہ، اور میرے اندر بہت زیادہ جوش آتا ہے تو رات میں مشت زنی کا عادی ہو گیا ہوں۔ براہ کرم، رہبری فرمائیں۔

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157684

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:458-389/L=4/1439



اگر آپ دونوں(لڑکا لڑکی ) مجلس نکاح میں موجود تھے تو نکاح درست ہو گیا نکاح کے وقت مہر کی تعیین ضروری نہیں ،بعد میں بھی تراضی طرفین سے مہر مقرر کرسکتے ہیں ،نکاح کے بعد مہر کی ادائیگی سے پہلے صحبت کرنا زنا نہیں ہے ۔واضح رہے کہ نکاح علانیہ کرنا چاہیے شریعت نے اعلان کا حکم فرمایا ہے اور بہتر ہے کہ نکاح اولیاء کی اجازت اور ان کی موجودگی میں ہو ،مذکورہ بالا طریقے پر لڑکا لڑکی کا باہم نکاح کرلینا مناسب نہیں۔ (وَکَذَا یَجِبُ) مَہْرُ الْمِثْلِ (فِیمَا إذَا لَمْ یُسَمِّ) مَہْرًا(أَوْ نَفَی إنْ وَطِءَ) الزَّوْجُ (أَوْ مَاتَ عَنْہَا إذَا لَمْ یَتَرَاضَیَا عَلَی شَیْءٍ) یَصْلُحُ مَہْرًا (وَإِلَّا فَذَلِکَ) الشَّیْءُ (ہُوَ الْوَاجِبُ(در مختار) وفی الشامی:(قَوْلُہُ فِیمَا إذَا لَمْ یُسَمِّ مَہْرًا) أَیْ لَمْ یُسَمِّہِ تَسْمِیَةً أَوْ سَکَتَ عَنْہُ نَہْرٌ، فَدَخَلَ فِیہِ مَا لَوْ سَمَّی غَیْرَ مَالٍ کَخَمْرٍ وَنَحْوِہِ، أَوْ مَجْہُولَ الْجِنْسِ کَدَابَّةٍ وَثَوْبٍ....



(قَوْلُہُ وَإِذَا لَمْ یَتَرَاضَیَا) أَیْ بَعْدَ الْعَقْدِ (قَوْلُہُ وَإِلَّا) بِأَنْ تَرَاضَیَا عَلَی شَیْءٍ فَہُوَ الْوَاجِبُ بِالْوَطْءِ أَوْ الْمَوْتِ أَمَّا لَوْ طَلَّقَہَا قَبْلَ الدُّخُولِ فَتَجِبُ الْمُتْعَةُ کَمَا یَأْتِی فِی قَوْلِہِ: وَمَا فُرِضَ بَعْدَ الْعَقْدِ أَوْ زِیدَ لَا یَتَنَصَّفُ․ (شامی:4/242ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات