معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 156990

سوال: مفتی صاحب میرے والد صاحب میری شادی میری پھپو کی بیٹی سے کرانا چاہتے ہیں جب کہ میری والدہ اس رشتے کے خلاف ہیں، اور والدہ اس وجہ سے مخالفت کر رہی ہیں، کیوں کہ لڑکی میرے والد کے خاندان سے ہے ، اور میری والدہ کو سسرال کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی ہیں،میری پھپو نے ما ضی میں میری والدہ کے ساتھ جھگڑے کیے تھے ۔ اسی و جہ سے میری والدہ اس رشتے کے خلاف ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ میری زندگی بھی میری والدہ کی زندگی کی طرح گزرے ۔ اس صورتحال میں مجھے والد کی بات ماننی چاہئے یا والدہ کی بات ؟

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 156990

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:343-261/sn=4/1439



آپ اپنی والدہ کو بھی راضی کرنے کی کوشش کریں، اگر لڑکی ٹھیک ٹھاک ہے تو پھر اس کی والدہ کی ماضی کی حرکتوں کی وجہ سے رشتہ نہ کرنا مناسب نہیں ہے؛ باقی اگر آپ والدہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے والد کی تجویز کے مطابق اپنی پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کرلیں گے تو گنہ گار نہ ہوں گے؛ کیونکہ باپ کی حیثیت منتظم کے ہوتی ہے اور ماں باپ کی تابع ہوتی ہے۔ (دیکھیں: امداد الفتاوی: ۴/ ۳۷۰، سوال: ۴۶۴، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات