معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 156905

محترم مفتیان کرام کلما کی قسم میں جب فضولی نکاح کرے گا تو کیا اس طرح ہو سکتا ہے کہ جس وقت نکاح خواں نکاح پڑھائے اور فضولی اس کے ایجاب کے جواب میں کہے کہ میں نے فلاں بن فلاں کے لئے فلاں بنت فلاح کا نکاح قبول کیا تین دفعہ کہے اور پھر جس بندہ کے لئے اس نے نکاح قبول کیا اس کو جاکر بتا دے کہ میں نے تیرا نکاح اتنے حق مہر میں فلاں بنت فلاں سے سے کر دیا اور وہ بندہ خاموشی سے حق مہر دے دیتا ہے اور کچھ نہیں کہتا۔ تو اس کا نکاح ہو جائے گا۔ وہ بندہ کب تک خاموش رہے ۔؟ کچھ اور بول سکتا ہے اس سارے عمل کے بعد؟

Published on: Dec 27, 2017

جواب # 156905

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:398-349/H=4/1439



نکاح قبول کرے میں خاموش رہے اور زبان سے قبول نہ کرکے چپکے سے مہر کی ادائیگی کردے، قبول نکاح کے علاوہ دیگر امور میں خاموش رہنے کا حکم نہیں ہے اور فضولی شخص جو نکاح اُس بندہ کی طرف سے قبول کرے گا تو تین دفعہ قبول کرنے کی ضرورت نہیں بس ایک دفعہ قبول کرلینا کافی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات