معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 156707

حضرت، میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کس طرح کی شادی کی اجازت دیتی ہے، دونوں لڑکا اور لڑکی والے کیا کریں گے؟ اور آج کل جس طرح ہم کرتے ہیں وہ کس طرح ہے، صحیح ہے یا غلط؟ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کس طرح شادیاں کی تھیں؟
تھوڑی وضاحت کردیں، کرم ہوگا۔ شکریہ

Published on: Jan 8, 2018

جواب # 156707

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:298-45T/sn=4/1439



اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو إن اعظم النکاح برکة أیسرہ موٴنة (مسند احمد رقم: ۲۴۵۲۵) نیز ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ لڑکی کے انتخاب میں دینداری کو مدار بنائے۔ (بخاری، باب الأکفاء فی الدین، رقم: ۵۰۹) حاصل یہ ہے کہ شادی سادگی سے کی جائے جس جگہ رشتہ پسند آئے تو لڑکا یا لڑکی کا ولی اور سرپرست پیغامِ نکاح دیدے، جب منظور ہوجائے تو بلا کسی رسم ورواج کے کوئی دن مثلاًجمعہ کا روز مقرر کرلیا جائے، اس دن لڑکا اپنے والد اور ایک دو معزز افراد کے ساتھ لڑکی کے یہاں چلا جائے، وہاں کسی مسجد میں سب لوگ نماز ادا کریں، اور اس مسجد میں لڑکی کا ولی بھی لڑکی سے اجازت لے کر آجائے، بعد نماز تھوڑی دیر فریقین اور حاضرین مسجد میں بیٹھ جائیں ، پھر مسجد کا امام یا کوئی اہل فرد خطبہ پڑھ کر لڑکی کے ولی (یا وکیل) کی اجازت سے لڑکے کے سامنے ایجاب کرے، لڑکا قبول کرلے پھر مختصر دعا کرائے، بس نکاح ہوگیا، اس کے بعد لڑکی والے دلہن کو رخصت کرادیں، اگر اس موقع پر لڑکا اور اس کے ساتھ آنے والے دوچار افراد کو لڑکی والے کھانا کھلادیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جب لڑکی رخصت ہوکر سسرال چلی آئے تو شبِ زفاف کے بعد لڑکا ولیمہ مسنون کردے، جس میں حسب حیثیت اعزہ واقارب نیز غرباء مساکین کو مدعو کرکے کھانا کھلادے۔



(۲) آج کل شادی اور منگنی کے نام پر جو رسمیں کی جاتی ہیں، ان کا ترک ضروری ہے، نیز مروجہ بارات بھی واجب الترک ہے، شادی کی محفل میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے وہ تو قطعا ناجائز ہے، ان سے احتراز ضروری ہے۔



(۳) صحابہٴ کرام کے یہاں انتہائی سادگی سے نکاح انجام پاتا تھا حتی کہ صحابہٴ کرام مدینہ میں نکاح کرتے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا پتہ نہ چلتا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے ہی میں ہوتے، خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات سے نکاح کا ولیمہ تو اس طور پر کیا کہ رفقاء سفر صحابہ سے فرمایا کہ جس کے پاس کھانے کی جو چیز ہے وہ لے آئے، پھر سب لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر جمع شدہ چیزیں تناول فرمالی، بس ولیمہ ہوگیا، اس ولیمے میں نہ گوشت تھا اور اور نہ روٹی، صرف کھجور، ستو، پنیر اور اس طرح کی چیزیں تھیں جو صحابہٴ کرام اپنے اپنے پاس سے لے کر آئے تھے۔ (سیرة المصطفی: ۳/ ۳۲۴، ط: کراچی) اسلامی شادی (افادات: حضرت اقدس تھانوی) میں شادی سے متعلق بہت مفید باتیں موجود ہیں، اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات