معاشرت - نکاح

inida

سوال # 155988

حضرت، میں نکاح کرنے والا ہوں، میں نے کہا کہ جہیز نہیں ہونا چاہئے اور رات کے وقت کا کھانا نہیں ہونا چاہئے، اور ولیمہ میں اپنی استطاعت کے مطابق کروں گا، ۱۰۰/ افراد اُن لوگوں کے اور ۸۰/ ہمارے، وہ بھی گھر پر، میں شادی خانہ نہیں لینا چاہ رہا ہوں، میرے اور لڑکی کے گھر والوں میں کیا بات ہوئی پتا نہیں، وہ لوگ باراتیں آپ لوگوں کو نہیں آنا ہے تو مت آوٴ، ہم شادی خانہ لے آئے اور ہمارے لوگوں کو کھلا لائے۔ ان لوگ کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگ دوسرے صوبہ اور ضلع کے ہیں جیسا بھی ہو ہمیں ان کو سونے اور کھانے کے لیے شادی خانہ لینا ہے اور پھر میرے گھر والے بول رہے ہیں کہ شاد خانہ میں ولیمہ کریں گے، صرف گھر میں کرنے کا شادی خانہ میں نہیں۔
اب یہ بتائیں کہ نکاح اور ولیمہ کیسا کرنا چاہئے؟ اور کیا کرنا چاہئے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ گھر والے بول رہے ہیں کہ ماں باپ کی نافرمانی کر رہا ہے اور بہن، بھائی کا دل توڑ رہا ہے، راتوں کی نیند چلی گئی، ماں باپ کو کیوں ٹینشن ہوا جارہا، مجھے کیا کرنا چاہئے سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اسلامی اصول و ضوابط اور قرآن و حدیث سے کیا معاملہ ہے شادی کا، مہربانی کرکے بتائیں۔ شکریہ

Published on: Nov 11, 2017

جواب # 155988

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 245-220/H=2/1439



مذہب اسلام نے شادی کو انتہائی سادی کرنے کی قولاً و عملاً ترغیب دی ہے انتہائی سادگی کے ساتھ کرنے کرانے میں اب آپ کو جو کچھ دشواریاں درپیش ہیں اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ آپ مقامی علماء کرام اصحاب فتویٰ حضرات کی خدمت میں حاضر ہوکر والدین اور سسرال والوں کی باتوں کو صحیح صحیح نقل کردیں پھر وہ حضرات جیسے جیسے رہنمائی فرمائیں اس کے مطابق عمل کرتے رہیں بہشتی زیور (ب) اسلامی شادی وغیرہ جیسی کتب معتبرہ میں اس موضوع پر عمدہ و مدلل کلام ہے اللہ پاک سب کو اسلامی ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور اتباع سنت کی دولت سے مالا مال فرمائے، آمین۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات