معاشرت - نکاح

INDIA

سوال # 154037

میں امی کی خالہ کی لڑکی کو آٹھ سال سے جانتا ہوں اور پسند بھی کرتا ہوں، آٹھ سال پہلے ہی لڑکی کی امی نے رشتہ کے لیے میرے ابو اور امی سے کہا تھا لیکن کچھ مناسب جواب نہیں ملا، اور اب میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں تو ابو پرانے زمانے کی بات کو لے کر منع کر رہے ہیں، اور میں اس کے بغیر خوش نہیں رہ پاوٴں گا، اور اسی کے لیے میرا دل بھی لگا رہے گا، اب اسے کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے، اور لڑکی کے گھر والے راضی ہیں، لڑکی کو جیسے میری امی اور ابو چاہتے ہیں اسی طرح وہ عالمہ کا کورس کر کے تیاری کر رہی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جو لڑکی اپنے پیار کے پاس آنے کے لیے خود کو بدل سکتی ہے تو کیا وہ اپنے شوہر یا اس کے امی اور ابو کو تکلیف دے گی؟
براہ کرم مجھے جواب دیں، میں بہت مشکل میں ہوں اور دعا فرمائیں۔

Published on: Sep 21, 2017

جواب # 154037

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1194-1001/D=12/1438



والدین اگر کسی دینی یا دنیوی یقینی نقصان کی وجہ سے شادی سے منع کر رہے ہیں، تو ان کی بات ماننا ضروری ہے، اور اگر کسی دینی دنیوی نقصان کے اندیشہ کے بغیر ہی منع کررہے ہیں، تو بھی والدین کی خوشنودی اور رضامندی کا خیال رکھنا چاہئے۔ آپ کسی ذریعہ سے اپنا رجحان اپنے والدین کے علم میں لے آئیں تاکہ وہ بلا کسی بڑی وجہ کے اپنے جوان بیٹے کے رجحان کو نظر انداز نہ کریں، پھر بھی اگر والدین تیار نہیں ہیں تو اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں سے مشورہ کرکے اپنے معاملہ کو حل کیجئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات