معاشرت - نکاح

pakisttan

سوال # 153963

میں ایک شیعہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس کو میں پچھلے ۶/ سالوں سے جانتا ہوں۔ اس لڑکی کے منہ سے آج تک میں نے کوئی کفریہ جملہ نہیں سنا، وہ تمام صحابہ کو مانتی ہے اور وہ یہ بھی مانتی ہے کہ قرآن پورا ہے۔ اور میں اس بات پر بھی بھروسہ رکھتا ہوں کہ میں اس کا مذہب بدل دوں گا، اس کا عقیدہ بدل دوں گا مگر شادی کے بعد، میں خود اس سے اس زور پر شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں اس حقیقت کو بہتر طریقے سے شادی کے بعد ہی دیکھ پاوٴں گا۔
اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا نکاح میرا اس سے جائز ہوگا؟ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ جواب مستند حدیث یا قرآنی آیات یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے واقعات کی روشنی میں قلم بند کریں تاکہ میں حقیقت کا مطالعہ کرسکوں۔

Published on: Sep 19, 2017

جواب # 153963

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1181-974/D=12/1438



شیعوں کے یہاں تقیہ اور کتمان ایسی چیزیں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے اصل عقائد، خیالات، رحجانات کو چھپالے جاتے ہیں، بلا ثبوت کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں کرنی چاہیے لیکن شیعوں کا عقیدہ صحابہٴ کرام، قرآن پاک، حضرت عائشہ صدقہ کے بہتان کے سلسلہ میں معروف ہے جس کی بنا پر عام طور پر شیعوں کو کافر مرتد کہا جاتا ہے اور ان سے نکاح ناجائز بتلایا جاتا ہے۔



اگر کسی لڑکی کے بارے میں یقین کے درجہ میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ نہ تو تمام صحابہ کے مرتد ہونے کی قائل ہے (چند کو چھوڑ کر)، نہ قرآن پاک کے بعض حصے کے غائب ہونے کا عقیدہ رکھتی ہے ، نہ ائمہ کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتی ہے، نہ ہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر باندھے گئے بہتان کو صحیح سمجھتی ہے،نہ ہی نبوت کے پیغام رسانی کے سلسلہ میں حضرت جبریل علیہ السلام سے غلطی ہوجانے کا عقیدہ رکھتی ہے وغیرہ وغیرہ تو ایسی لڑکی پر کفر کا حکم لگانے میں اگرچہ احتیاط کی جائے گی اور اسے کافر نہیں کہیں گے؛ لیکن نکاح جیسا نازک رشتہ قائم کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرلینا اور مقامی علماء سے مشورہ لے کر اطمینان کرلینا ضروری ہوگا۔



کیونکہ نکاح کے لیے ایسی لڑکی کا انتخاب ہونا چاہیے جو دین واخلاق کے اعتبار سے صحیح قابل اطمینان اور پختہ ہو ورنہ اس کے غلط اثرات خود شوہر پر یا ہونے والی اولاد پر پڑنے کے امکانات رہتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات