معاشرت - نکاح

India

سوال # 153962

میری والدہ کسی بھی قیمت پرتیار نہیں ہیں۔ چاہے میں استخارہ کروں یا کوئی اور عمل کروں، جیسا کہ آپ نے بتایا تھا استخارہ کرنے کو ، میں اس کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتا، بالآخر مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اگر میرا اس سے نکاح نہیں ہوا تو وہ بھی کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی یہ میرا اور اس کا فیصلہ ہے۔

Published on: Sep 19, 2017

جواب # 153962

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1180-973/D=12/1438



اگر کسی شرعی رکاوٹ یا دنیوی ضرر ،جو یقین کے درجہ میں ہو، کے لاحق ہونے کی وجہ سے والدہ تیار نہ ہورہی ہوں تو آپ کو والدہ کی رائے اور مرضی کی پیروی کرنی چاہیے۔



اور اگر ایسی کوئی وجہ نہیں ہے تو والدہ کا اپنے جوان بچوں کے رجحان کو بلا وجہ نظر انداز کرنا اور اپنی مرضی کا جبرًا انھیں پابند کرنا مناسب نہیں ہے۔ کہیں بچے نافرمانی کے گناہ کے مرتکب نہ ہوجائیں۔



آپ کسی واسطے سے اپنا رجحان والدہ تک پہنچادیں اگر کسی دینی یا دنیوی نقصان سے بچانے کے لیے وہ اصرار کررہی ہوں تو اس کی تعمیل کرنے کے لیے آپ اپنے کو تیار کرلیں۔ محض جذبات کے آگے مجبور نہ ہوں اور نہ اس سے متأثر ہوکر کوئی اقدام کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات