معاشرت - نکاح

India

سوال # 149357

ایک لڑکی شمع جس سے گیارہ نومبر ۲۰۱۱ء کو میں نے سلطان پور ہریدوار اجتماع میں نکاح کیا تھا، آنے والے رمضان سے پہلے اس کی وداعی ہوئی تھی ، شمع اور میں دونوں روزانہ فون پر بات چیت کرتے تھے، بہت پیار کرتے ہیں ایک دوجے کو ، لاسٹ ٹائم پندرہ روز پہلے میں نے غصے میں اس کو کہہ دیا کہ تمہاری فیملی ہماری فیملی کو عزت نہیں دیتی اور اچھا برتاوٴ نہیں کرتی ، اگر تمہاری فیملی اچھا برتاوٴ نہیں کرے گی تو ہم بھی نہیں کریں گے، یہ بات اس کو اتنی بری لگی کہ اس نے اپنے والدین سے کہہ دیا، شمع کی فیملی کہہ رہی ہے کہ لڑکا جب شروع میں ایسا برتاوٴ کر رہا ہے تو بعد میں اور برا کرے گا، میرے والد اور ماموں نے ان سے بات کی اور ساری صورت حال ان کے سامنے رکھی لیکن وہ لوگ نہیں مان رہے، وہ رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں جب کہ میں اس لڑکی کے بنا جی نہیں سکتا، میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں میں مر جاوٴں گا، لڑکی اپنی فیملی کے دباوٴ میں ہے، لڑکی والے طلاق لینے کو کہہ رہے ہیں جب کہ میں اس لڑکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔
برائے مہربانی بتائیں کہ میں کیا کروں؟ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ ایسے حالات میں میری زندگی داوٴ پر لگی ہے۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149357

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 537-473/sd=6/1438



آپ صبر و ہمت سے کام لیں، معافی تلافی کے ساتھ خاندان کے سمجھدار، معاملہ فہم لوگوں کو بیچ میں دال کر معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرانے کی کوشش کریں، بشرط صحت سوال لڑکی والوں کو چاہیے کہ وہ ذرا سی بات پر رشتہ کو ختم کرنے کا ہر گز مطالبہ نہ کریں، جب شوہر اور بیوی آپس میں ساتھ رہنے کے لیے تیار ہیں، دونوں میں محبت اور الفت بھی قائم ہے، تو لڑکی والوں کا مذکورہ بات کی وجہ سے رشتہ میں رکاوٹ ڈالنا شریعت کی رو سے صحیح نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات