معاشرت - نکاح

United States

سوال # 149233

(۱) میرے دوست نے کچھ گواہوں کی موجودگی میں مسجد میں ایک عورت سے شادی کی تھی، مگر کسی طرف سے کسی کاغذ پر دستخط نہیں ہوا تھا،
(۲) دو مہینے کے بعد میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوگیا اور بیوی گھر چھوڑ کرچلی گئی ہے اور وہ واپس نہیں آنا چاہتی ہے، شوہر نے اس کو طلاق نہیں دی ہے تو شریعت کے مطابق شوہر کو کتنے دنوں کا انتظار کرنا چاہئے؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Mar 9, 2017

جواب # 149233

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 494-472/N=6/1438



(۱): اگر مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کرنے والوں کے علاوہ کم از کم دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں موجود تھیں اور انہوں اپنے کانوں سے دونوں کا ایجاب وقبول سنا تو شریعت کی نظر میں یہ نکاح منعقد ودرست ہوگیا اگرچہ نکاح کا کوئی کاغذ تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر کسی کے دستخط لیے گئے ؛ کیوں کہ نکاح نامہ محض استحبابی چیز ہے ، صحت نکاح کے لیے لازم وضروری نہیں ہے۔ وأما الکتابة ففي عتق المحیط: یستحب أن یکتب للعتق کتاباً ویشھد علیہ صیانة عن التجاحد کما فی المداینة بخلاف سائر التجارات للحرج؛لأنھا مما یکثر وقوعھا اھ، وینبغي أن یکون النکاح کالعتق؛لأنہ لا حرج فیہ اھ (رد المحتار، أول کتاب النکاح، ۴:۸۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



(۲):اللہ تعالی نے مرد کو عورت کے مقابلہ میں ڈبل عقل دی ہے ؛ لہٰذا اسے سمجھ داری سے کام لینا چاہیے، اگر عورت واپس آنا نہیں چاہتی ہے تو مرد کو چاہیے کہ اسے نرمی ومحبت سے سمجھائے اور عورت کو شوہر کے پاس جو پریشانیاں ہوں یا جو چیزیں آپسی جھگڑے واختلاف کی بنیاد ہوں انھیں ختم کرنے کی کوشش کرے، انشاء اللہ عورت کا دل نرم ہوگا اور وہ شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوجائے گی، اور مرد کو اس سلسلہ میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ اور اگر مرد کی کوئی کوشش کام یاب نہ ہو اور عورت بہر صورت طلاق یا خلع لینے پر بہ ضد ہو تو کسی تجربہ کار مستند ومعتبر مفتی اور ہوشیار وکیل کے مشورے سے طلاق دینے یا خلع منظور کرنے میں کچھ حرج نہیں تاکہ اگر عورت عدت کے بعد کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرسکے اور مرد کو بھی چاہیے کہ ایسی صورت میں دوسرا نکاح کرلے، عورت کو اس کی مرضی کے خلاف واپس لانے کے درپے نہ ہو ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات