معاشرت - نکاح

Maharashtra

سوال # 149093

مجھے مشت زنی کی عادت سی ہوگئی ہے اور یہ مسئلہ مباشرت کی ضرورت یا عمر کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہواہے، میر ی عمر بیس سال ہے، مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی صورت حال میں کیا کروں؟مشت زنی کے بعد مجھے افسوس ہوتاہے اور احساس ہوتاہے کہ میں نے غلط کیا ہے، اور فیصلہ کرتا ہوں کہ اب دوبارہ نہیں کروں گا، مگر کچھ دنوں کے بعد پھر کرلیتاہوں ۔
براہ کرم، میری مدد کریں۔ میں کیا کروں؟ کیا کسی کو بتائے بغیر میں نکاح کرسکتاہوں؟اس کے بعد نکاح کے بارے میں بتاؤں گا اور صورت حال کو کنٹرول کرلوں گا، تو کیا میں نکاح کرسکتاہوں؟میں نے قرآن ، ذکر اور نمازپڑھنے کی بہت کوشش کی ، مگر کچھ دنوں تک ․․․ میں اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149093

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 547-528/B=6/1438



یہ کام اپنی صحت پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے، اس کام کیوجہ سے دل و دماغ کمزرو ہوجاتے ہیں، پھر زیادہ کرنے کی صورت میں وہ شخص شادی کے لائق نہیں رہتا، نیز یہ بہت بڑا گناہ بھی ہے ، ایسا کرنے والا قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کی انگلیاں گیابھن ہوں گی، اس دن تمام انسانوں کے درمیان ذلت اٹھانی پڑے گی اس لیے اس کا پختہ ارادہ کرلیں کہ خواہ کتنی بھی شہوت کا اُبھار ہو میں مشت زنی ہرگز ہوگز نہیں کروں گا۔



دوسرا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے ماں باپ سے کسی کے ذریعہ اپنی شادی جلد کرانے کی طرف اشارہ کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات