معاشرت - نکاح

India

سوال # 149067

حضرت، میں ایک طالب علم ہوں، میری عمر ۲۳/ سال ہے، میں خود نہیں کماتا ، میرے والد صاحب میرا خرچہ اٹھاتے ہیں، اگر میرا نکاح نہیں ہوا تو مجھے خود کو نکاح سے روک پانا بہت ہی زیادہ مشکل ہوگا یعنی ناممکن کے برابر۔
حضرت، میں نے اپنے والد صاحب سے کہہ دیا کہ میرا نکاح کردو، وہ میرا اور میری اہلیہ کا خرچہ آرام سے اٹھاسکتے ہیں پھر بھی اگر انہوں نے میرا نکاح نہ کیا شاید سوسائٹی کے ڈر سے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ میں کیا کروں؟
حضرت ،میں اس بات کو واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ آپ میرے مسئلہ پر کچھ سنجیدہ فتوی دیں کہ میں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی وقت لگایا ہے اور مسجد کے اعمال کے ساتھ جڑا بھی ہوں اور خانقاہ بھی جوائن ( ملحق ہونا) کیا تھا، اور میں نے ایک مفتی صاحب سے بات بھی کی ہوئی ہے، لیکن میری شہوت میں کوئی فرق نہیں پڑا اور مجھ سے گناہ پھر بھی ہوتے رہے، اور عمر زیادہ ہونے کے خدشات ہیں اگر جلد از جلد نکاح نہ ہوا۔

Published on: Feb 23, 2017

جواب # 149067

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 491-371/Sd=5/1438



آپ کے والد صاحب کیا نکاح کرانے سے انکار کررہے ہیں؟ اگر انکار کررہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ خود سے نکاح کا اقدام نہ کریں؛ والد صاحب کو ان کے کسی قریبی معتبر عزیز کے ذریعہ اپنی بات پہنچادیں، ان شاء اللہ جلد ہی آپ کے نکاح کی کوئی صورت نکل جائے گی، جب تک نکاح نہ ہو، آپ کبھی کبھی روزہ رکھ لیا کریں اور جائز کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھیں، نیز آپ خود کمانے کی فکر کریں، جائز حدود میں رہ کر محنت وکوشش کرنا دین کا ایک اہم فریضہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات