معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 148816

صورت مسئلہ: زید نے دو شادیاں کی ہیں۔پہلی بیوی کا نام زینب ہے اور دوسری کا نام رقیہ ہے ۔زینب سے ایک بیٹی ہوئی جس کا نام رقیہ ہے۔ زید نے اپنی دوسری بیوی کے بھائی کے ساتھ (جو رشتے میں زید کا سالہ ہے ) اپنی پہلی بیوی زینب کی بیٹی رقیہ کا نکاح کردیا ۔اور اب رقیہ کی اولاد بھی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا زید اپنی دوسری بیوی کی اولاد کا نکاح اپنے سالہ جس کے ساتھ رقیہ کی شادی کی ہے ،کی اولاد کے ساتھ کر سکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 148816

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 475-422/sd=6/1438



صورت مسئولہ میں زید کی دوسری بیوی رقیہ کی اولاد کا نکاح پہلی بیوی زینب کی بیٹی رقیہ کی اولاد کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ وابنة الأخ حرام، وہي علی ثلاثة أصناف: ابنة الأخ لأب وأم، وابنة الأخ لأب، وابنة الأخ لأم، الأخ والأخت وإن سفلت بالاجماع۔ (بدائع الصنائع ۳/۳۰۶)ویحرم بنت أختہ لأب وأم أو لأحدہما لقولہ تعالیٰ: ﴿وَاَخَوَاتُکُمْ﴾ وفیہا لقولہ تعالیٰ: ﴿وَبَنَاتُ الْاُخْتِ﴾ وابنة أختیہ لأب وأم، أو لأحدہما لقولہ تعالیٰ: ﴿وَبَنَاتُ الْاَخِ﴾ وإن سفلن لعموم المجاز أو دلالة النص أو الإجماع۔ (مجمع الأنہر ۱/۳۲۳دار إحیاء التراث العربي بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات