معاشرت - نکاح

India

سوال # 148790

میں پیشے سے یونیورسٹی کا پروفیسر ہوں اور غیر شادی شدہ ہوں، میں نے شروع سے ہی سنت کے مطابق داڑھی رکھی ہے اور میری ایک مشت کے قریب داڑھی ہے، میری شادی کے لیے رشتہ ڈھونڈا جار رہا ہے لیکن جب بھی لڑکی والے دیکھنے آتے ہیں تو عذر پیش کردیتے ہیں کہ میری داڑھی بڑی ہے اس لیے وہ رشتہ نہیں کرسکتے اور کہتے ہیں یا تو داڑھی کٹواوٴ (نعوذ باللہ) یا کترواکر چھوٹی کروالو تبھی شادی کریں گے، جو بھی رشتے والے آتے ہیں یہی سنا کر چلے جاتے ہیں، حضرت میرا سوال ہے کہ :۔
(۱) سنت کے مطابق داڑھی کتنی ہونی چاہئے؟ اور کیا ایک مشت سے کم فیشن والی داڑھی رکھنے سے سنت کا ثواب ملے گا؟
(۲) کیا شادی کرنے کے لیے داڑھی چھوٹی رکھنی چاہئے؟ کیا سنت والی داڑھی شادی کے بعد رکھنی چاہئے؟
(۳) جو لڑکی والے داڑھی کٹوانے یا چھوٹی کروانے کی بات کرتے ہیں ان کو سنت کے مطابق کس طرح کا جواب دینا چاہئے؟

Published on: Mar 7, 2017

جواب # 148790

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 756-633/L=5/1438



(۱، ۲، ۳) داڑھی رکھنا واجب اور ضروری ہے اور کم از کم یکمشت داڑھی رکھنا ضروری ہے متعدد احادیث میں داڑھی رکھنے کا تاکیدی حکم مذکور ہے؛ اس لیے شادی کی غرض سے داڑھی چھوٹی کرادینا اور خشخشی داڑھی رکھ لینا جائز نہیں، جو لوگ داڑھی چھوٹی کرانے کا مشورہ دیتے ہیں ان کو سمجھنا چاہئے کہ مذہب اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تاکیدی حکم فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک صلحاء امت کا اس پر عمل رہا ہے اس انداز پر آپ ان کو سمجھا سکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ آپ شادی دین دار گھرانے میں کریں بہت سے گھرانے اب بھی ہیں جو اپنی لڑکی کی شادی ایسے لڑکے سے کرانا چاہتے ہیں جو صالح اور دین دار ہو، علماء میں شاید ہی کوئی ایسا ہوتا ہو جو پوری داڑھی نہ رکھتا ہو لیکن شادی ان کی آسانی سے ہو جاتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات