معاشرت - نکاح

India

سوال # 148776

میری شادی ۲۰۰۸ء میں ہوئی، میں ۲۰۰۹ء سے مسلسل عرب ممالک میں رہا، بیچ بیچ میں چھٹی ملتی رہی تو میں اپنے بیوی بچوں کے پاس رہا، اب گذشتہ دس مہینوں سے میری نوکری چھوٹ گئی ہے، اس لیے اب گھر پر ہی تجارت شروع کیا ہوں، کیونکہ تجارت نئی ہے اتنی اِن کم نہیں ہوتی کہ گھر پہلے کی طرح چلے، لیکن پھر بھی جیسے تیسے کر کے چلا رہا ہوں، میری بیوی ہر دن مجھے طعنہ دیتی ہے کہ باہر جاوٴ اور کماوٴ مجھے پیسہ چاہئے، پر میں مسلسل گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے اب یہیں تجارت کر رہا ہوں، ان شاء اللہ حالات بدلیں گے، بیوی کی ناراضگی کی حد یہ ہو گئی ہے کہ اپنے پاس سونے بھی نہیں دیتی، کبھی کبھی تو ہفتوں بات نہیں کرتی، لگ بھگ کروڑوں کی جائیداد جس کو میں نے عرب میں رہ کر بنایا وہ بیوی کے نام پر ہے، ایسے حالات میں میں اس کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ براہ کرم کوئی مناسب حل بتائیں کہ اب میں کیا کروں؟

Published on: Feb 23, 2017

جواب # 148776

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 533-458/B=5/1438



شادی ہوجانے کے بعد بیوی کو شوہر کے تابع ہو کر رہنا چاہیے، شوہر تنگی یا خوشحالی جس حالت میں رہے بیوی کو صبر وشکر کے ساتھ رہنا چاہیے، کروڑوں کی جائداد اس کے نام ہوتے ہوئے ایسی ناشکری کرنا بڑی شرم کی بات ہے۔



آپ کچھ دنوں کے لیے بالکل خاموش ہوجائیں وہ جو کچھ بھی کہتی یا کرتی ہے اس پر صبر کریں، کچھ دنوں کے بعد وہ خود ہی نرم ہوجائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات