معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 148749

ایک مسئلہ پوچہنا ہے کہ مجہے یہ تو معلوم ہے کہ جس لڑکی سے شادی کرنی ہو تو اس کو ایک بارنظر بہر کر دیکھنے کی اجازت ہے ، مگر یہ بتائیں کہ اگر لڑکی کے گھر والوں یا والدین نے لڑکے کو اس لڑکی کی تصویر موبائل یا پرنٹ پر دکہا دی ہو تو کیا اب وہ لڑکا اس لڑکی کو حقیقتا سامنے سے نہیں دیکھ سکتا ؟ کیا موبائل پر ایک بار دیکھ لینے کے بعد لڑکے کا یہ حق ختم ہوجائے گا کہ وہ ایک بار لڑکی کو از خود دیکھ سکے ؟
براہ کرم وہ حدیث بہی نقل کردیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کو ایک بار دیکھ لو، نیز یہ بتادیجیے کہ کیا اس لڑکی کو پہلی بار جب دیکہے تو اس سے اس وقت کچھ بات چیت / سلام دعا کرسکتے ہیں یا نہیں۔ براہ کرم وضاحت کے ساتھ جواب دیں۔ میرے ایک دوست نے مسئلہ پوچہا ہے ۔ وہ کہہ رہا کہ میں اسی وقت لڑکی کو دیکہوں گا جب کہ شریعت میں اجازت ہو۔ واضح رہے کہ وہ اس لڑکی کی تصویر موبائل پر دیکھ چکا ہے ۔ جلد جواب دیجیے ۔ جزاکم اللہ خیرا

Published on: Feb 21, 2017

جواب # 148749

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 609-550/Sn=5/1438



آپ کے دوست نے تصویر دیکھ کر غلط کیا؛ لیکن اس کے باوجود اس کے لیے گنجائش ہے کہ ایک نظر براہ راست لڑکی (جس سے نکاح کا ارادہ ہے) کو دیکھے، ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مخطوبہ لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی ہے، عن المغیرة بن شعبة أنّہ خطب امرأة فقال النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- انظر إلیہا؛ فإنہ أحری أن یوٴدم بینکما (ترمذی، رقمگ ۱۰۸۷)؛ البتہ بہتر ہے کہ باقاعدہ پروگرام کے تحت دیکھنے کے بہ جائے کہیں چھپ چھپاکر دیکھ لے، رہی بات چیت اور سلام دعا تو اس کی ضرورت نہیں ہے، اس سلسلے میں گھر کی عورتوں کی بات پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات