معاشرت - نکاح

India

سوال # 146805

جہاں تک میں نے سنا ہے مہر دو طرح ہے ہوتے ہیں۔مہر معجل اور مہرمئوجل۔مہر معجل کے بارے میں سنا ہے کہ یہ مہر بیوی کو شب زفاف کو ہی ادا کردینا چاہئے ۔ اور بیوی کو مہر کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔مہر مئوجل کے بارے میں سنا ہے کہ اس کی ادائیگی کی کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی۔ یہ زندگی میں کبھی بھی یا طلاق جیسی نوبت آجائے تو تب ادا کر سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ جلد از جلد ادا کر دے ۔مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ اگر مہر معجل ہے اور اس کی ادائگی کے بغیر بیوی کے ساتھ ہمبستری کی تو وہ ناجائزہے ۔ آپ رہنمائی فرمائیں کے مہر معجل کی ادائیگی کئے بغیر بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنا کیسا ہے ؟

Published on: Dec 22, 2016

جواب # 146805

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 309-272/L=3/1438



 



مہر معجل کی ادائیگی جلد از جلد کردینی چاہئے، مہر معجل کی ادائیگی سے قبل بیوی کو وطی سے منع کرنے کا حق حاصل رہتا ہے تاہم اگر مہر معجل کی ادائیگی سے پہلے بیوی سے ہمبستری کی جائے تو وہ ناجائز یا زنا نہ ہوگی جن صاحب کی بات سوال میں مذکور ہے وہ درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات