معاشرت - نکاح

india

سوال # 146544

میں امام ہوں، میں نے دارالعلوم دیوبند سے عالمیت کی ہے، میں ایک لڑکی اور ایک لڑکے نکاح کا گواہ بناتھا، لڑکی اسلامی طریقے سے جلد از جلد نکاح کرنا چاہتی تھی ،دونوں کے گھرالوں میں رسمی بات ہوچکی تھی،مگر لڑکی کے گھروالے نکاح میں تاخیرکررہے تھے کیوں کہ لڑکی کی بڑی بہن کا رشتہ کہیں طے نہیں ہوا تھا۔نکاح ایک کمرے میں ہوا جہاں لڑکی ،لڑکا اور امام موجوتھے، اس نے خطبہ پڑھا اور اس نے اپنے آپ کو اور اللہ کو اس نکاح کا گواہ بنایا تو کیا نکاح درست ہوگیا یا نہیں؟

Published on: Dec 19, 2016

جواب # 146544

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 186-140/N=3/1438



 



 از روئے شرع نکاح درست ومنعقد ہونے لیے مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کرنے والوں کے علاوہ کم از کم دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کا بحیثیت گواہ ہونا ضروری ہے ، صورت مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی کے علاوہ مجلس عقد میں صرف آپ تھے، آپ کے ساتھ کوئی اور گواہ نہیں تھا اور اللہ تعالی ہر معاملہ کو جانتے ہیں، ان کو گواہ بنانے کی ضرورت نہیں،اور صحت نکاح کے لیے قانون خداوندی میں انسانوں سے مطلوبہ گواہ (دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں )چاہیے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں نکاح درست نہیں ہوا۔ عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قولہ: لا نکاح إلا ببینة (سنن الترمذي ۱: ۱۴۰، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،وشرط حضور شاہدین حرین أو حر وحرتین مکلفین سامعین قولھما معاً علی الأصح فاھمین أنہ نکاح علی المذھب ، بحر، مسلمین الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، ۴: ۸۶- ۹۲،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، تزوج بشھادة اللہ ورسولہ لم یجز الخ (المصدر السابق، ص ۹۹)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات