عبادات - جمعہ و عیدین

Pakistan

سوال # 6920

کیا زندہ انسان کے نام کا عمرہ ہوسکتا ہے؟ اگر ہاں، تو میرا ایکچچازاد سعودی میں رہتا ہے، کیا وہ میرے نام کا عمرہ کرسکتاہے؟ اور اس کا کیاطریقہ ہے، کیا اس کے سفر یا عمرہ کے دوران جو اخراجات آئیں گے وہ میں اسے بھجواؤں؟


(۲) ایک چیز کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کی جو خواب والی کیٹاگری ہے اس میں ہر دوسرے شخص یا سوالی کا یہ خواب ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خواب میں آئے ہیں، میرا بالکل بھی خیال نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی عام آدمی کے خواب میں آنا اتنا آسان یا ممکن ہے۔ میری گذارش ہے کہ آپ لوگوں کو یہ بات سمجھائیں کہ اگر کسی کو کوئی بزرگ ہستی خواب میں آتی ہے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ لے دیا کریں۔


(۳) اسلام میں خواص اور عام کا تصور کہاں تک ہے؟ بطور مثال کے ایک جگہ اجتماع ہوتو کیا وہاں پر کھانے کے وقت عام اور خواص کا کھانا الگ الگ ہوسکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس سے تفریق نہیں آتی؟ کسی آیت یا حدیث سے بھی حوالہ دیں۔

Published on: Aug 31, 2008

جواب # 6920

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1390=1305/ د


 


جی ہاں کرسکتا ہے۔ (الف) اگر وہ خود سے عمرہ کرکے آپ کو اس کا ثواب پہنچانا چاہتا ہے تو ایسا کرسکتا ہے، عمرہ اپنی طرف سے کرنے کی نیت کرے گا اور ثواب آپ کو پہنچائے گا۔


(ب) اگر آپ نے اس سے عمرہ کرنے کے لیے کہا ہے تو وہ عمرہ کی نیت آپ کی طرف سے کرے گا، اور اس صورت میں مناسب رقم سفر خرچ کی دینے کی بھی اجازت ہے۔


(۲) حدیث میں ہے کہ جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اگر کسی خواب دیکھنے والے کا دل گواہی دیتا ہے یا خواب میں ایسے قرائن ہیں جس سے اسے یقین ہوتا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہورہا ہوں، پھر بیداری میں وہ کسی سے اپنا خواب بیان کرتا ہے کہ مجھے اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے تو سننے والے کے لیے اس کی تکذیب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہاں اس نے جھوٹا خواب نعوذ باللہ گڑھ کر بیان کردیا یا اس کے احساس و شعور نے غلطی کی تو اس کی ذمہ داری اس پر ہے۔


(۳) اعزاز واکرام، تواضع و ضیافت، میں خاص وعام میں امتیاز کرنا عام آدمی کی تحقیر کے لیے جائز نہیں ہے، البتہ خاص کے اعزاز کے لیے جائز بلکہ مستحب ہے۔ أنزل الناس علی قدر منازلھم۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات