عبادات - جمعہ و عیدین

United Kingdom

سوال # 6499

ایک شخص نے دو مقتدیوں کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی کیا یہ نماز درست ہے؟ کیوں کہ امام ابویوسف رحمةاللہ علیہ کے نزدیک یہ درست ہے۔ اگر نماز درست نہیں ہوئی تو کیا اس کو نماز دہرانی ہوگی اور اگر وقت ختم ہوگیا ہو تو کیا اس کو قضا کرنی ہوگی؟ (۲) اگر کسی شخص کی نماز جمعہ فوت ہوجائے تو قضا کرنے کے وقت کیا اس کو دو رکعت فرض ادا کرنی ہوگی یا چاررکعت فرض؟

Published on: Aug 19, 2008

جواب # 6499

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 812=750/ ل


 


جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے امام کے علاوہ تین بالغ شخصوں کا موجود رہنا ضروری ہے، یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے اور اس کی تصحیح شرا ح نے کی ہے، بناء بریں ایسی نماز کا اعادہ ضروری ہے اور وقت نکل جانے کے بعد چار رکعت بہ نیت ظہر ادا کرلی جائے۔ والسادس الجماعة وأقلھا ثلاثة رجال سوی الإمام وفي الشامي: سوی الإمام ہذا عند أبي حنیفة رحمہ اللہ ورجح الشارحون دلیلہ واختارہ المحبوبي والنسفي کذا في تصحیح الشیخ قاسم (شامي: ج۳ ص۲۴، ط زکریا دیوبند)


(۲) جمعہ کی نماز فوت ہوجانے کے بعد چار رکعت بہ نیت ظہر ادا کرنی چاہیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات