عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 59998

(۱) گر کسی شخص کی عید کی نماز جماعت سے رہ گئی یعنی اس کو جماعت نہیں ملی تو کیا وہ اکیلا یا آٹھ دس لوگوں کے ساتھ مل کر یا اکیلا گھر پہ عید کی نماز پڑھ سکتاہے؟
(۲) عید کی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں کیا گناہ ہوگا؟
(۳) اگر کسی شخص کو عید کی نماز ایک رکعت ہی ملی تووہ نماز پوری کیسے کرے؟ وہ طریقہ استعمال کرے جیسے ہم پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز کی پہلی رکعت تین زاید تکبیروں کے ساتھ والا طریقہ استعمال کریں۔جزاک اللہ ۔

Published on: Aug 26, 2015

جواب # 59998

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1160-1226/L=11/1436-U

(۱) ایسے شخص کو چاہیے کہ عید کی نماز نہ پڑھے بلکہ گھر جاکر دو چار رکعت نفل پڑھ لے البتہ اگر آٹھ دس لوگوں کی جماعت رہ گئی ہو تو یہ لوگ عیدگاہ سے الگ جماعت کرسکتے ہیں۔
(۲) عید کی نماز واجب ہے، بلاعذر اس کا چھوڑنے والا گنہ گار ہے۔
(۳) ایسا شخص امام کے سلام کے بعد جب کھڑا ہو تو اول ثنا، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ، سورت پڑھے پھر تین تکبیرات زوائد کہے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور بقیہ نماز پوری کرے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات