عبادات - جمعہ و عیدین

Pakistan

سوال # 47816

جمعہ کی پہلی اذان کے بعد لین دین اور کارو بار کرنے کی بڑی سختی سے ممانعت ہے ، مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتائیں کہ پہلی اذان ہے یا دوسری اذان؟اگر پہلی اذان ہے تو اس کے لیے کیا دلائل ہیں؟ میں نے کسی کو قائل کرنا ہے کہ یہ پہلی اذان ہے دوسر ی نہیں ہے۔

Published on: Oct 3, 2013

جواب # 47816

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1317-1317/M=11/1434-U

خرید وفروخت کی ممانعت جمعہ کی اذانِ اول ہی کے بعد سے ہے، قرآن میں ہے کہ ”یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلَاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ“ (الجمعة: ۹) وفي البحر: ویجب السعي وترک البیع بالأذان الأول لقولہ تعالی: یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلَاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ (الجمعة: ۹) وإنما اعتبر الأذان الأول لحصول الإعلام بہ․․․ وہذا القول ہو الصحیح في المذہب․ (البحر الرائق: ۲/۲۷۳، زکریا دیوبند)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات