عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 28869

(۱) جمعہ کے دن خطبہ اولی لوگوں کی عام زبان (اردو، تمل ، وغیرہ ) میں دینا کیسا ہے؟جو حضرت خطبہ اولی اور ثانیہ لوگوں کی عام زبان سے ہٹ کر عربی میں خطبہ دینے کو بدعت اور باعث فتنہ کہتے ہیں، ان کا اس طرح کہنا کیسا ہے؟
(۲) پہلی صف پر کرنے کی خاطر پرانے ممبر کو توڑ کر چھوٹا جدید ممبر بنانا کیسا ہے ؟جمعہ کے دن اذان خطبہ سے پہلے ممبر کے نیچے کھڑے ہو کر عام زبان میں وعظ و نصیحت کرنا اور خطبہ اولی کے درمیان پانچ منٹ پہلے سنت کے لیے وقفہ دینا اور ان دونوں کو بدعت قرار دینا کیسا ہے؟ ممبر کی شرعی کی حد کیا ہے؟، ایک ، دو، تین یا چار؟محلے کے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پرانا ممبر توڑ نے کی وجہ سے محلے کے لوگوں میں وہابیت اور نحوست پھیلتی ہے ، ان کا اس طرح سے کہنا کیسا ہے؟

Published on: Jan 12, 2011

جواب # 28869

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(م): 129=129-2/1432

جمعہ کے دونوں خطبے (اولیٰ اور ثانیہ) عربی زبان میں دینا سنت متوارثہ ہے، عربی کے علاوہ اردو، تمل وغیرہ میں دینا مکروہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام میں سے کسی بھی صحابی سے مقامی زبان میں خطبہ دینا ثابت نہیں جو لوگ عربی زبان میں خطبہ دینے کو بدعت اور باعث فتنہ کہتے ہیں ان کی یہ جسارت ہی بدعت اور باعث فتنہ ہے کیوں کہ قرون ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کہیں اس کا ثبوت نہیں کہ صحابہٴ کرام نے غیرعربی میں خطبہ دیا ہو،حالانکہ بہت سے عجمی ملکوں کو فتح کیا اور وہاں بود وباش اختیار کی۔ 
(۲) پرانے ممبر کو بوقت ضرورت توڑنے میں مضائقہ نہیں،جمعہ کے دن اذان خطبہ سے قبل مقامی زبان میں وعظ ونصیحت کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اس وقت لوگ جمعہ کی سنتوں میں مشغول نہ ہوں اور سنت کے لیے پانچ منٹ کا موقع تقریر کے بعد دیدیا جائے، اس کی اجازت ہے، ان کو بدعت قرار دینا جہالت اور زیادتی ہے، ممبر کے زینے تین ہونے چاہئیں، چار پانچ ہوں تو بھی منع نہیں ہے، پرانا ممبر توڑنے کی وجہ سے محلے میں نحوست پھیلنے والی بات توہمات کے قبیل سے ہے، شرع میں اس کی کوئی اصل نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات